ترتیب و تدویب
مولانا محمد زبیر عقیل
فاضل مدینہ یونیورسٹی
تمہید۔ ذیل میں کچھ ایسے اعمال کا تذکرہ کرتے ہیں جو مسلمان کے شایان شان نہیں۔ اور ایسے کام کرنے والے کو نبی رحمت صلی اللہ
علیہ وسلم نے بھی فرمایا ليس منا وہ ہم میں سے نہیں۔
سورة المائدة آیت نمبر 90 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ 90اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام ہیں سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ۔✳️ وضاحت ۔ شراب جوا بت پانسے سب شیطانی اعمال ہیں۔ مسلمان کا شیوہ نہیں کہ ان اعمال کے قریب بھی جائے۔
چہرے نوچنے والا گریبان پھاڑنے والا ماتم اور نوحہ کرنے والا ہم میں سے نہیں بخاری حدیث نمبر 3519 ليسَ مِنَّا مَن ضَرَبَ الخُدُودَ، وشَقَّ الجُيُوبَ، ودَعا بدَعْوَى الجاهِلِيَّةِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو (نوحہ کرتے ہوئے) اپنے رخسار پیٹے، گریبان پھاڑ ڈالے، اور جاہلیت کی پکار پکارے۔“
بخاری 1283 الراوي : أنس بن مالك.مَرَّ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ بامْرَأَةٍ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ، فَقالَ: اتَّقِي اللَّهَ واصْبِرِي قالَتْ: إلَيْكَ عَنِّي، فإنَّكَ لَمْ تُصَبْ بمُصِيبَتِي، ولَمْ تَعْرِفْهُ، فقِيلَ لَهَا: إنَّه النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ، فأتَتْ بَابَ النبيِّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ، فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَهُ بَوَّابِينَ، فَقالَتْ: لَمْ أَعْرِفْكَ، فَقالَ: إنَّما الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الأُولَى.نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک عورت پر ہوا جو قبر پر بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ وہ بولی جاؤ جی پرے ہٹو۔ یہ مصیبت تم پر پڑی ہوتی تو پتہ چلتا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان نہ سکی تھی۔ پھر جب لوگوں نے اسے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، تو اب وہ (گھبرا کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر پہنچی۔ وہاں اسے کوئی دربان نہ ملا۔ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو پہچان نہ سکی تھی۔ (معاف فرمائیے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبر تو جب صدمہ شروع ہو اس وقت کرنا چاہیے (اب کیا ہوتا ہے)۔
بخاری 1280الراوي : أم حبيبة أم المؤمنين لَمَّا جَاءَ نَعْيُ أَبِي سُفْيَانَ مِنَ الشَّأْمِ، دَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بصُفْرَةٍ في اليَومِ الثَّالِثِ، فَمَسَحَتْ عَارِضَيْهَا، وذِرَاعَيْهَا، وقالَتْ: إنِّي كُنْتُ عن هذا لَغَنِيَّةً، لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النبيَّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ يقولُ: لا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ باللَّهِ واليَومِ الآخِرِ، أَنْ تُحِدَّ علَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إلَّا علَى زَوْجٍ، فإنَّهَا تُحِدُّ عليه أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وعَشْرًا.ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر جب شام سے آئی تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا (ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور ام المؤمنین) نے تیسرے دن ”صفرہ“ (خوشبو) منگوا کر اپنے دونوں رخساروں اور بازوؤں پر ملا اور فرمایا کہ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ کوئی بھی عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ شوہر کے سوا کسی کا سوگ تین دن سے زیادہ منائے اور شوہر کا سوگ چار مہینے دس دن کرے۔ تو مجھے اس وقت اس خوشبو کے استعمال کی ضرورت نہیں تھی۔✳️ وضاحت : شریعت کی رو سے عورت کا کوئی بھی قریبی عزیز فوت ہو جائے تو تین دنوں کے بعد اس کا سوگ ختم ہو جاتا ہے اور جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے اس کا سوگ چار ماہ دس دن بعد ختم ہو جاتا ۔اس کے علاوہ کسی قسم کا سوگ نوحہ اور ماتم کرنے والی ہم میں سے نہیں۔
بخاری 1296الراوي : أبو موسى الأشعريوَجِعَ أَبُو مُوسَى وجَعًا شَدِيدًا، فَغُشِيَ عليه ورَأْسُهُ في حَجْرِ امْرَأَةٍ مِن أَهْلِهِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شيئًا، فَلَمَّا أَفَاقَ، قالَ: أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ منه رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ، إنَّ رَسولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ: بَرِئَ مِنَ الصَّالِقَةِ ۔چلا کر رونے والی ‘ والحَالِقَةِ ۔ سر منڈوانے والیوالشَّاقَّةِ. گریبان چاک کرنے والیابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیمار پڑے ‘ ایسے کہ ان پر غشی طاری تھی اور ان کا سر ان کی ایک بیوی ام عبداللہ بنت ابی رومہ کی گود میں تھا (وہ ایک زور کی چیخ مار کر رونے لگی) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اس وقت کچھ بول نہ سکے لیکن جب ان کو ہوش ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی اس کام سے بیزار ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیزاری کا اظہار فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کسی غم کے وقت) چلا کر رونے والی ‘ سر منڈوانے والی اور گریبان چاک کرنے والی عورتوں سے اپنی بیزاری کا اظہار فرمایا تھا۔
مسلم حدیث نمبر 934 / 2160النَّائِحَةُ إذا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِها، تُقامُ يَومَ القِيامَةِ وعليها سِرْبالٌ مِن قَطِرانٍ، گرم پگھلے ہوئے تانبے کی شلوار ودِرْعٌ مِن جَرَبٍ. خارش کی قمیصنوحہ کرنے والی جب اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس کو اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس ( کے بدن ) پر تارکول کا لباس اور خارش کی قمیص ہو گی ۔
دین میں نئی نئی بدعات اور خرافات اور عبادات کرنے والے ہم میں سے نہیں بخاری 5063جَاءَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ إلى بُيُوتِقالَ أحَدُهُمْ: أمَّا أنَا فإنِّي أُصَلِّي اللَّيْلَ أبَدًا، وقالَ آخَرُ: أنَا أصُومُ الدَّهْرَ ولَا أُفْطِرُ، وقالَ آخَرُ: أنَا أعْتَزِلُ النِّسَاءَ فلا أتَزَوَّجُ أبَدًا، فَجَاءَ رَسولُ اللَّهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم إليهِم، فَقالَ: أنْتُمُ الَّذِينَ قُلتُمْ كَذَا وكَذَا؟! أَمَا واللَّهِ إنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وأَتْقَاكُمْ له، لَكِنِّي أصُومُ وأُفْطِرُ، وأُصَلِّي وأَرْقُدُ، وأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فمَن رَغِبَ عن سُنَّتي فليسَ مِنِّي.تین حضرات (علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیا تو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں (رات میں) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ «فمن رغب عن سنتي فليس مني» میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔
السلسلة الصحيحة. صحيح عن عمرو بنِ سلَمةَ الهمْدانيِّ قال كنا نجلسُ على بابِ عبدِ اللهِ بنِ مسعودٍ قَبل صلاةِ الغداةِ …في كلِّ حلْقةٍ رجلٌ وفي أيديهم حصًى فيقول كَبِّرُوا مئةً فيُكبِّرونَ مئةً فيقول هلِّلُوا مئةً فيُهلِّلون مئةً ويقول سبِّحوا مئةً فيُسبِّحون مئةً ۔ويحكم يا أمَّةَ محمدٍ ما أسرعَ هلَكَتِكم هؤلاءِ صحابةُ نبيِّكم صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ مُتوافرون وهذه ثيابُه لم تَبلَ وآنيتُه لم تُكسَر ۔والذي نفسي بيده إنكم لعلى مِلَّةٍ هي أهدى من ملةِ محمدٍ أو مُفتتِحو بابَ ضلالةٍ ۔ حدیث نمبر: 308عمرو بن سلمہ ہمدانی کہتے ہیں کہ ہم قبل از نماز فجر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کے دروازے پر بیٹھا کرتے تھے، جب وہ نکلتے تو ہم ان کے ساتھ مسجد کی طرف چل پڑتے، ۔۔۔۔۔ جب وہ آئے تو ہم بھی ان کی طرف کھڑے ہو گئے۔ ابوموسٰی نے انہیں کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! ( اے عبداللہ بن مسعود ) ابھی میں نے مسجد میں ایک چیز دیکھی ہے، مجھے اس پر بڑا تعجب ہوا، لیکن اللہ کے فضل سے وہ نیکی کی ہی ایک صورت لگتی ہے۔ انہوں نےکہا: وہ ہے کیا؟ ابوموسیٰ نے کہا: اگر آپ زندہ رہے تو خود بھی دیکھ لیں گے، میں نے دیکھا کہ لوگ حلقوں کی صورت میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کر رہے ہیں، ان کے سامنے کنکریاں پڑی ہیں، ہر حلقے میں ایک (مخصوص) آدمی کہتا ہے: سو دفعہ ”اللہ اکبر“ کہو۔ یہ سن کر حلقے والے سو دفعہ ”اللہ اکبر“ کہتے ہیں۔ پھر وہ کہتا ہے: سو دفعہ ”سبحان اللہ“ کہو۔ یہ سن کر وہ سو دفعہ ”سبحان اللہ“ کہتے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: اس عمل پر تو نے ان کو کیا کہا؟ ۔۔۔۔۔ ایک حلقے کے پاس گئے، ان کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا: تم لوگ یہ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! یہ کنکریاں ہیں، ہم ان کے ذریعے تکبیرات، تہلیلات اور تسبیحات کو شمار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ایسی (نیکیوں کو) برائیاں تصور کرو، میں ضمانت دیتا ہوں کہ تمہاری نیکیوں میں سے کسی نیکی کو ضائع نہیں کیا جائے گا (بشرطیکہ) وہ نیکی ہو۔ اے امت محمد! تمہاری ناس ہو جائے، تم تو بہت جلد اپنی ہلاکت کے پیچھے پڑ گئے ہو، ابھی تک تم میں اصحاب رسول کی بھر پور تعداد موجود ہے، ابھی تک تمہارے نبی کے کپڑے بوسیدہ نہیں ہوئے اور نہ ان کے برتن ٹوٹے ہیں، (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا زمانہ قریب ہی ہے)۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کیا تم لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے بہتر دین کو اپنا رکھا ہے یا ضلالت و گمراہی کا دروازہ کھول رہے ہو؟ انہوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہمارا ارادہ تو نیکی کا ہی تھا۔ انہوں نے کہا: کتنے لوگ ہیں جو نیکی کا ارادہ تو کرتے ہیں، لیکن اس تک پہنچ نہیں پاتے۔ ✳️ وضاحت : تو پتا چلا کہ عبادت اپنی طرف سے ایجاد نہیں کی جا سکتی۔ بلکہ جو کچھ سنت سے ثابت ہے وہی دین اور شریعت ہے باقی سب بدعات اور خرافات
صحیح بخاری حدیث نمبر 2697مَن أَحدَثَ في أَمْرِنَا هذا ما ليسَ فِيهِ فَهو رَدٌّ ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ہمارے دین میں از خود کوئی ایسی چیز نکالی جو اس میں نہیں تھی تو وہ رد ہے۔
الترغيب والترهيب. صححه الألباني. الراوي : أنس بن مالك.إنَّ اللهَ حجب التوبةَ عن كلِّ صاحبِ بدعةٍ حتى يدَعَ بدعتَه۔ بدعتی جب تک اپنی بدعت سے باز نہیں آتا تب تک اس کے لئے توبہ کا دروازہ بند رہتا ہے
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُوشِكُ أَنْ تَنْزِلَ عَلَيْكُمْ حِجَارَةٌ مِنْ السَّمَاءِ! أَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُونَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ .سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں: دیکھنا کہیں تم پر آسمان سے پتھروں کی بارش نہ ہو جائے میں تمہیں کہتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور تم مجھے آپ ﷺ کے مقابلے میں شیخین کے اقوال پیش کرتے ہو کہ ابو بكر صديق رضی اللہ عنہ نے یوں کہا عمر رضی اللہ عنہ نے یوں کہا۔
بد شگونی کرنے والا نجومیوں کے پاس جانے والا ہم میں سے نہیں صحیح الجامع. صححه الألباني ليس منا من تَطَيَّرَ ولا من تُطُيِّرَ له ، أوْ تَكَهَّنَ أوْ تُكُهِّنَ لَهُ ، أو تَسَحَّرَ أوْ تُسُحِّرَ لَهُ .وہ شخص ہم میں سے نہیں، جس نے بدشکونی لی, یا جس کے لیے بدشگونی لی گئی، جس نے کہانت کی یا جس کے لیے کہانت کی گئی, یا جس نے جادو کیا یا جس کے لیے جادو کیا گيا۔
جادوگروں اور نجومیوں کے پاس جانے کا گناہ الترغيب والترهيب. قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف عن عبد اللَّه بنَ مسعودٍ قالَ من أتى عرَّافًا أو ساحرًا أو كاهنًا فسألَهُ فصدَّقَهُ بما يقولُ فقد كفرَ بما أنزلَ على محمَّدٍ ۔جو شخص غیب بتانے والے یا جادوگر یا نجومی کے پاس گیا اس سے سوال کیا اور اس کی تصدیق کی تو اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی شریعت کے ساتھ کفر کیا۔
چالیس دن تک نماز قبول نہ ہو گیمسلم 2230 / 5821مَن أتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عن شيءٍ، لَمْ تُقْبَلْ له صَلاةٌ أرْبَعِينَ لَيْلَةً.جو شخص غیب کی خبریں بتانے والے کے پاس گیا اور اس سے سوال کیا تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی
دھوکہ دہی کرنے والا ہم میں سے نہیں ابو داؤد 3452 صححه الألباني أنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ مرَّ برجلٍ يبيعُ طعامًا فسألَهُ كيفَ تَبيعُ ؟ فأخبرَهُ فأوحى إليهِ أن أدخل يدَكَ فيهِ ، فأدخلَ يدَهُ فيهِ فإذا هوَ مبلولٌ ، فقالَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ : لَيسَ منَّا من غشَّ ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو غلہ بیچ رہا تھا آپ نے اس سے پوچھا: ”کیسے بیچتے ہو؟“ تو اس نے آپ کو بتایا، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ حکم ملا کہ اس کے غلہ (کے ڈھیر) میں ہاتھ ڈال کر دیکھئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلہ کے اندر ہاتھ ڈال کر دیکھا تو وہ اندر سے تر (گیلا) تھا تو آپ نے فرمایا: ”جو شخص دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے (یعنی دھوکہ دہی ہم مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے)“۔✳️وضاحت: آج کل کوئی ایسی چیز ہے جو ہمیں خالص ملتی ہے؟ ہر چیز میں ملاوٹ اور دو نمبری میں ہماری قوم بڑی ماہر ہے۔
مردوں کی مشابہت کرنے والی عورتیں اور عورتوں کی مشابہت اور ہیجڑے خسرے ہم میں سے نہیں بخاری 6834 لَعَنَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ المُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ، والمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ، وقالَ: أخْرِجُوهُمْ مِن بُيُوتِكُمْ وأَخْرَجَ فُلَانًا، وأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا.نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو مخنث بنتے ہیں اور ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو مرد بنیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اپنے گھروں سے نکال دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو گھر سے نکالا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے فلاں کو نکالا تھا۔✳️ وضاحت: آج کل خسرے شہروں میں دیہاتوں میں پردہ دار گھروں میں بے دریغ گھس جاتے ہیں کسی کو برائی محسوس بھی نہیں ہوتی ۔ لا حول ولا قوة الا بالله
ہیجڑوں کی خباثت صحیح بخاری حدیث نمبر 5235 أنَّ النبيَّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ كانَ عِنْدَهَا وفي البَيْتِ مُخَنَّثٌ، فَقَالَ المُخَنَّثُ لأخِي أُمِّ سَلَمَةَ عبدِ اللَّهِ بنِ أبِي أُمَيَّةَ: إنْ فَتَحَ اللَّهُ لَكُمُ الطَّائِفَ غَدًا، أدُلُّكَ علَى بنْتِ غَيْلَانَ، فإنَّهَا تُقْبِلُ بأَرْبَعٍ وتُدْبِرُ بثَمَانٍ، فَقَالَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ: لا يَدْخُلَنَّ هذا عَلَيْكُنَّ. ام المؤمنین ام سلمہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف رکھتے تھے، گھر میں ایک مغیث نامی مخنث بھی تھا۔ اس مخنث (ہیجڑے) نے ام سلمہ کے بھائی عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر کل اللہ نے تمہیں طائف پر فتح عنایت فرمائی تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی کو دکھلاؤں گا کیونکہ وہ سامنے آتی ہے تو (مٹاپے کی وجہ سے) اس کے چار شکنیں پڑ جاتی ہیں اور جب پیچھے پھرتی ہے تو آٹھ ہو جاتی ہیں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ام سلمہ سے) فرمایا کہ یہ (مخنث) تمہارے پاس اب نہ آیا کرے۔
اسلام اور علماء کے خلاف زہر اگلنے والے ہم میں سے نہیں صحيح الجامع . حسنه الألباني ليس منَّا مَنْ لم يُجِلَّ كبيرَنا ، ويرحمْ صغيرَنا ! ويَعْرِفْ لعالِمِنا حقَّهُ ۔جو شخص بڑے کی عزت نہیں کرتا چھوٹے پر شفقت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔✳️ وضاحت: آج کل لوگوں کی دلچسپی اور فیشن بنتا جا رہا ہے کہ اسلام پر حملے کرے مساجد مدارس اور علماء کے خلاف زہر اگلے ۔
مونچھیں بڑھانے والا ہم میں سے نہیں ترمذی 2761 ۔ صححه الألباني مَن لم يأخُذْ من شاربِهِ فليسَ منَّا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنی مونچھوں کے بال نہ لیے (یعنی انہیں نہیں کاٹا) تو وہ ہم میں سے نہیں ہے✳️ وضاحت : آج کل ساری بدمعاشی تکبر اکڑ اور مونچھوں کو تاؤ دینا سب برائیوں کی جڑ ہے ۔
گن پوائنٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے ہم میں سے نہیں ابو داؤد 4292 صححه الألباني ومن انتهب نُهبةً مشهورةً فليس منَّارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” جو اعلانیہ کسی کا مال لوٹ لے وہ ہم میں سے نہیں“۔✳️ آج کل شہر شہر گلی گلی محلہ محلہ اس بے سکونی میں ہے کہ گن پوائنٹ پر نقدی زیورات موبائل گاڑیاں اور ہر قیمتی چیز پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں۔
بادشاہوں کے حاشیہ نشین اور ان کے ظلم کی حمایت کرنے والے ہم میں سے نہیں ترمذی 2259 صححه الألباني اسمَعوا، هل سَمِعْتُم أنَّهُ سيَكونُ بَعدي أمراءُ؟ فمَن دخلَ عليهم فصدَّقَهُم بِكَذبِهِم وأعانَهُم على ظُلمِهِم فلَيسَ منِّي ولستُ منهُ وليسَ بواردٍ عليَّ الحوضَ، ومَن لَم يدخل علَيهِم ولم يُعِنهم على ظُلمِهِم ولم يصدِّقهم بِكَذبِهِم فَهوَ منِّي وأَنا منهُ وَهوَ واردٌ عليَّ الحوضَ ۔آپ نے فرمایا: ”سنو: کیا تم لوگوں نے سنا؟ میرے بعد ایسے امراء ہوں گے جو ان کے پاس جائے ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں ہے اور نہ میں اس سے ہوں اور نہ وہ میرے حوض پر آئے گا، اور جو شخص ان کے پاس نہ جائے، ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کرے اور نہ ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے، وہ مجھ سے ہے، اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے حوض پر آئے گا“۔✳️ وضاحت : سیاست کے رنگ بڑے نرالے ہیں۔ آپ کو،بہت سے لیڈر ایسے نظر آئیں گے جو ہر نئی حکومت کے ساتھ ہوتے ہیں اور حکمرانوں کے ظلم پر جی حضوری کر رہے ہوتے ہیں۔