فضیلۃ الشیخ محمد زبیر عقیل (فاضل مدینہ یونیورسٹی)
اس مسئلے میں علماء کا اختلاف ہے جبکہ دلائل کی روشنی میں عشاء کا وقت آدھی رات تک ہونا زیادہ قوی محسوس ہوتا ہے ۔
اس کی دلیل صحیح مسلم کی حدیث ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ( فَإِذَا صَلَّيْتُمْ الْعِشَاءَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ)
صحیح مسلم 612 / 1386آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا
کہ آدھی رات تک اختیاری اور اصل وقت رہتا ہے۔ ” مَعْنَاهُ : وَقْت لِأَدَائِهَا اِخْتِيَارًا
اس لیے بعد مجبوری کے طور پر فجر تک وقت رہتا ہے۔
اس کی دوسری دلیل صحیح مسلم کی حدیث نمبر 613 بھی ہو سکتی ہے
جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن سب نمازیں اول وقت میں پڑھائیں اور اگلے دن آخری وقت میں، حدیث کے الفاظ درج ذیل ہیں
وَصَلَّى العِشَاءَ بَعْدَ ما ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، اور پھر فرمایا
وَقْتُ صَلَاتِكُمْ بيْنَ ما رَأَيْتُمْ.
اور عشاء کی نماز ایک تہائی رات گزرنے پر پڑھائی ، اور فرمایا نمازوں کا وقت ان دونوں اوقات کے درمیان ہے ۔
اس حدیث سے ایک تہائی رات تک اور پہلی حدیث میں آدھی رات پر وقت ختم کر دیا۔ تو پتا چلا کہ اصل وقت آدھی رات تک رہتا ہے۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ شیخ ابن باز رحمہ اور سعودی عرب کی فتوی کمیٹی لجنہ دائمہ کا بھی یہی فتوی ہے۔
جس طرح عصر کا اصل وقت سورج کے زرد پڑنے سے پہلے تک ہے مگر اضطراری اور مجبوری کے طور پر غروب آفتاب تک رہتا ہے۔ جیسے کوئی بندہ مغرب سے تھوڑی دیر پہلے مسلمان ہو جائے تو اسے عصر کی نماز پڑھنی پڑے گی یا کسی اور عورت کو مغرب سے تھوڑا پہلے مخصوص ایام ( حیض ) سے طہارت حاصل ہو جائے تو اسے عصر کی نماز ادا کرنی پڑے گی۔
اسی طرح عشاء کا اصل وقت آدھی رات تک ہے جبکہ مجبوری اور اضطراری حالت میں فجر تک پڑھی جا سکتی ہے۔
۔ واللہ اعلم بالصواب