کیا کافر قرآن کی پرنٹنگ کے دوران اسے چھو سکتا ہے؟

 اس حدیث کو امام بخاری: (2990) اور مسلم : (1869) نے  روایت کیا ہے۔

صحیح مسلم کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے: ’’اس خوف سے کہ کہیں دشمن اس کی بے حرمتی نہ کریں۔

علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ کافر کو قرآن سننے سے نہیں روکا جائے گا، لیکن اسے مصحف چھونے سے روکا جائے گا۔ اور اگر کسی کافر کو قرآن سکھانے کی بات ہو تو اگر اس کے اسلام کی امید نہ ہو تو جائز نہیں، اور اگر امید ہو تو جواز ہے، یہی زیادہ صحیح قول ہے۔

ماخوذ از: المجموع۔۔۔ (2/85)

البتہ فتاوی عالمگیری میں  ہے کہ : امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: اگر کافر غسل کر لے تو جائز ہے،

 لیکن البحر الرائق میں امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف دونوں سے مطلق ممانعت منقول ہے۔

تمام مالکی، شافعی، اور حنبلی فقہائے کرام جبکہ احناف میں سے امام ابو یوسف  رحمہ اللہ کے نزدیک کافر کے لیے مصحف چھونا جائز نہیں، کیونکہ اس میں قرآن کریم کی بے ادبی ہے۔

البتہ امام محمد بن حسن الشیبانی فرماتے ہیں: اگر وہ غسل کر لے تو حرج نہیں، کیونکہ اصل مانع حدث ہے اور وہ غسل سے زائل ہو جاتا ہے، اس کے عقیدے کی ناپاکی اس کے دل میں ہے ہاتھ میں نہیں۔

(الموسوعة الفقهية مادہ كفرفقرہ: 16)

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا نصرانی کے لیے مصحف کو چھونا یا قرآن کریم کے تراجم کو چھونا جائز ہے؟

انہوں نے فرمایا

اس مسئلے میں اہلِ علم کا اختلاف ہے، مگر راجح قول یہ ہے کہ نصرانی، یہودی اور تمام کفار کو منع کیا جائے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن کو دشمن کی سرزمین میں لے جانے سے روکا تاکہ وہ اسے اپنے قبضے میں نہ لے سکیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ انہیں مصحف پر اختیار نہیں دیا جا سکتا، البتہ انہیں قرآن سننے کی اجازت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ

ترجمہ: اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔ (التوبہ: 6)

یعنی اسے قرآن کریم سننے کی اجازت ہے، قرآن کریم کا نسخہ دینے کی نہیں۔

جبکہ بعض اہلِ علم نے کہا کہ اگر اس کافر شخص کے اسلام قبول کرنے کی امید ہو تو جائز ہے، اور دلیل کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا وہ خط پیش کیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ھرقل کو قرآن  کریم کی آیت

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ… لکھی۔

اس دلیل کا جواب دیتے ہوئے ممانعت کے قائلین کہتے ہیں: یہ دلیل صحیح نہیں، کیونکہ یہ صرف ایک یا دو آیت لکھنے کی اجازت پر دلالت کرتی ہے، پورا مصحف دینے پر نہیں۔ البتہ جہاں تک قرآن کے ترجمہ  کا تعلق ہے تو کافر اسے چھو سکتا ہے، کیونکہ ترجمہ دراصل تفسیر ہے، قرآن نہیں۔ لہٰذا اگر وہ یا کوئی بے وضو شخص ترجمہ کو چھوئے تو حرج نہیں، کیونکہ یہ قرآن کا حکم نہیں رکھتا۔ قرآن کا حکم صرف اس تحریر پر ہے جو عربی زبان میں بلا تفسیر لکھی ہو، چنانچہ اگر کوئی بے وضو شخص، یا مسلمان یا کافر شخص تفسیر  کو پکڑنا چاہے تو اس کے لیے جائز ہےکیونکہ یہ تفسیر ہے مصحف اور قرآن کریم کا نسخہ نہیں ہے۔

ماخوذ از: مجموع فتاویٰ ابن باز: (24/340)

واللہ اعلم

Scroll to Top